1 جولائی 2013 - 19:30
صدر مرسی کی حکومت استعفیٰ دینے کے لیے تیار

حکومت مرسی استعفیٰ دینے کے لیے تیار/مرسی کے حامیوں کو حضرت جبرئیل نظر آنے لگے/ فوج نے اخوان رہنما کے 15 گارڈ گرفتار کر لئے/مصر کے وزیر خارجہ سمیت مزید ۱۰ وزراء مستعفیٰ/ صدرمرسی کے خلاف مظاہروں کا دائرہ وسیع/ اخوان المسلمین اپنی نجات کے لیے امریکہ سے متوسل/ مصری صدر نے فوجی الٹی میٹم مسترد کر دیا، فوج کی وضاحت

اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ مصر کے التحریر اسکوائر پر موجودہ حکومت کے خلاف عوام کا ایک بار پھر احتجاجی دھرنا دینا حکمران جماعت اخوان المسلمین کے غرور کو توڑنے کے لیے کافی ہے۔ محمد مرسی کی حکومت کے ٹھیک ایک سال بعد عوام نے وہی رویہ اپنایا ہے جو گزشتہ سال حسنی مبارک کو سرنگوں کرنے کے لیے اپنایا تھا۔ ایک ڈیڑھ سال پہلے اسی میدان ’’التحریر‘‘ پر تمام مصری جمع تھے کہ جن میں اخوان المسلمین بھی شامل تھی اور یہ نعرے لگا رہے تھے کہ حسنی مبارک کی ڈکٹیٹر حکومت نے ملک میں غریب عوام کو ظلم و جور کی چکی میں پسا ہے۔ عوام نے حسنی مبارک کو اقتدار کی کرسی سے کھینچ کر جیل میں بند کر دیا اور اس کی جگہ محمد مرسی کو پورے اعتماد کے ساتھ منصب صدارت پر بٹھایا کہ یہ غریب عوام کا لہو نہیں چوسیں گے بلکہ ان کی مشکلات کو حل کرنے کی کوشش کریں گے۔ ایک سال آزمائش کی کرسی پر بٹھا کر ان کا متحان بھی لے لیا لیکن معلوم یہ ہوا کہ یہ اقتدار کی کرسی ہر کسی کو زیب نہیں دیتی اس پر جو بھی بیٹھتا ہے اسے اقتدار کا نشہ سوار ہو جاتا ہے اور وہ بجائے عوام کی خدمت کے عوام پر آمریت کا سا سلوک کرتا ہے۔ اخوان المسلمین کے بر سر اقتدار آنے سے ان کا غرور آسمان چھونے لگا تھا مگر اقتدار کے بل بوتے پر تکبر اور غرور کرنا تو صرف ایک حماقت ہے اس لیے اقتدار کی رسی عوام کے ہاتھ میں ہوتی ہے وہ جس کو چاہیں پتنگ کی طرح اڑا کر آسمانی کی بلندیوں تک لے جائیں اور جس کو چاہیں کھینچ کر زمین بوس کر دیں۔ چونکہ جمہوریت نام ہی اسی چیز کا ہے اور جمہوری اقتدار میں حکمران کی لگامیں لوگوں کے ہاتھوں میں ہوا کرتی ہیں۔مصر میں موجودہ حالات کی تازہ ترین رپورٹ پیش خدمت ہے:حکومت مرسی استعفیٰ دینے کے لیے تیارالمیادین ٹی چینل نے فوری خبر دیتے ہوئے رپورٹ دی ہے کہ مصر میں صدر مرسی کے حکومت کے ترقیاتی امور کے وزیر نے کہا ہے کہ صدر مرسی کی حکومت استعفیٰ دینے کے لیے تیار ہے۔اس وزیر نے مزید کہا: جب سیاسی گروہ کیبنٹ سے استعفیٰ کا مطالبہ کریں گے تو حکومت اقتدار چھوڑنے پر مجبور ہو جائے گی۔

مرسی کے حامیوں کو حضرت جبرئیل نظر آنے لگے مصر کی نیوز ایجنسی الیوم کے مطابق محمد مرسی کے حامی سلفی شیخ جمال عبد الہادی نے ایک ویڈیو کلیپ منتشر کر کے اس میں یہ دعوی کیا ہے کہ انہوں نے مصر کی مسجد رابعۃ العدویہ میں حضرت جبرئیل کی زیارت کی ہے کہ آپ نے محمد مرسی کی حمایت کی تائید کی ہے۔اطلاعات کے مطابق مصر میں آج ہونے والے مظٓاہرین کے دوران اس سلفی شیخ نے یہ دعویٰ کیا جبکہ وہ خود بھی مرسی کے حامیوں کے ساتھ مظاہروں میں شریک تھے۔ نامہ نگاروں اور لوگوں نے ان کے اطراف میں حلقہ بندی کر کے انہیں گھیر رکھا ہے اور وہ پورے اطمینان کے ساتھ جناب جبرئیل کی زیارت اور ان کے ذریعے نازل شدہ وحی کے کلام کی وضاحت کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں مرسی کی کامیابی کے لیے دعا کرنے کو کہا گیا ہے۔واضح رہے کہ مصر میں گزشتہ ہفتے سے صدر محمد مرسی اور اخوان المسلمین کے خلاف عوام کے پرزور احتجاجات کے بعد وہ پوری طرح کوشاں ہیں کہ کسی ممکنہ طریقے سے لوگوں کے افکار کو دوسری سمت موڑا جائے۔ دوسرے حربوں کے استعمال کے ساتھ ساتھ اخوان المسلمین کا یہ تازہ ترین حربہ ہے جس کے ذریعے انہوں نے لوگوں کے اذہان کو سیاسی مسائل کی سمت سے ہٹانے کی کوشش کی ہے۔

فوج نے اخوان رہنما کے 15 گارڈ گرفتار کر لئے تازہ ترین اطلاعات کے مطابق مصر میں فوج نے اخوان المسلمین کے رہنما خیرات الشاطر کے 15 محافظوں کو گرفتار کر لیا ہے ۔واضح رہے کہ فوج نے آج مصری سیاسی لیڈروں کو ۴۸ گھنٹے کی ریڈ لائن دی تھی تاکہ وہ ملک میں جاری سیاسی بحران کا حل تلاش کریں۔مصری فوج کے کمانڈر انچیف عبدالفتح سیسی کا کہنا تھا کہ اگر سیاسی رہنما ملک میں جاری بحران کا حل کرنے میں ناکام رہے تو فوج خود اپنا سیاسی روڈ میپ دے گی۔ادھر اپوزیشن لیڈر عمر موسی نے مصری فوج کی پالیسی کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے مصری عوام کی خواہشات کے عین مطابق قرار دیا ہے۔

 مصر کے وزیر خارجہ سمیت مزید ۱۰ وزراء مستعفیٰمصر میں حکومت مخالف مظاہرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے  محمد مرسی کی حکومت کے مزید دس وزراء اس ملک کے وزیر اعظم ہشام قندیل کے دفتر میں اپنے عہدوں سے مستعفیٰ ہو گئے۔اطلاعات کے مطابق ان سے پہلے بھی ۴ وزراء مستعفیٰ ہو چکے ہیں۔ادھرالشرق الاوسط نیوز ایجنسی کے مطابق وزیر خارجہ محمد کامل عمرو نے بھی محمد مرسی کو اپنا استعفی پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا یہ فیصلہ اٹل ہے۔اطلاعات کے مطابق وزیر خارجہ کے استعفیٰ دینے کی وجہ یہ تھی کہ لوگ اس حکومت کی کارکردگی سے راضی نہیں ہیںمحمد کامل عمرو نے تاکید کی: میں کسی بھی صورت میں اپنے فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹوں گا اور استعفیٰ واپس نہیں لوں گا۔

صدرمرسی کے خلاف مظاہروں کا دائرہ وسیعمصر میں صدرمحمد مرسی کے خلاف کئی شہروں میں احتجاج جاری ہے۔ دارالحکومت قاہرہ کا تحریر اسکوائر ایک بار پھر حکومت مخالفین سے بھر گیا ہے جو صدر مرسی سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کررہے ہیں اور حزب اختلاف نے صدر مرسی کے ساتھ بات چیت سے بھی انکار کردیا ہے۔  مصری فوج نے حکومت اور اپوزیشن کو 48 گھنٹوں کا الٹی میٹم دیا ہے کہ وہ مسائل کا حل اتفاق رائے سے نکالیں۔ حکمران جماعت اخوان المسلمون نے فوج کا الٹی میٹم مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ فوجی مداخلت قبول نہیں کی جائے گی۔صدر کی جماعت اخوان المسلمین کے کئی دفتروں پر حملوں کی خبریں ہیں قاہرہ میں اخوان المسلمین کے دفتر کو مظاہرین نے تباہ کردیا ہے اس واقعہ میں 8 افراد ہلاک ہوگئے ہیں مظاہروں میں اب تک 16 افراد ہلاک اور 1000 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔

اخوان المسلمین اپنی نجات کے لیے امریکہ سے متوسل امریکہ محمد مرسی کو جو گزشتہ سال مصر میں الیکشن کے ذریعے بعنوان صدر منتخب ہوئے رسمی طور پر صدر تسلیم کرتا ہے لیکن بظاہر ان کی حمایت نہیں کرتا اور نہ ہی ان کی مخالفت کے لیے تیار ہے ایسا لگتا ہے کہ واشنگٹن مصر میں نظام کو فوجی کونسل کی طرف منتقلی کو بہتر سمجھتا ہے چونکہ مصر کی فوج سے امریکہ کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ موجودہ شرائط میں جبکہ اس ملک کا وزیر خارجہ محمد کامل عمرو بھی استعفی دے چکا ہے مصر کے ساتھ سفارتی تعلقات کے چینلز مشکلات سے دوچار ہیں۔ بہرصورت امریکہ اس وقت مصر میں تشدد اور افراتفری کا خواہاں نہیں ہے اسی وجہ سے وہ موجودہ تعطل سے باہر نکلنے کے لیے احتیاط سے کام لے رہا ہے۔ ادھر حکومت کے خلاف  لاکھوں افراد کے اٹھ کھڑے ہونے سے اخوان المسلمین تناقض گوئی کا شکار ہو گئے ہیں ایک طرف سے ان کا یہ کہنا ہے کہ یہ امریکہ کی چال ہے کہ اس نے عوام کو جمہوری حکومت کے خلاف اکسایا ہے دوسری طرف سے مصری فوج کو دھمکا رہے ہیں کہ اگر فوج سیاسی امور میں دخالت کرے گی تو امریکہ فوج کو اپنی امداد رسانی کا سلسلہ بند کر دے گا۔ حالیہ بحران میں اخوان المسلمین کی پوری کوشش یہ ہے کہ بہر صورت امریکہ کی توجہ کو اپنی طرف مبذول کریں اور واشنگٹن کو محمد مرسی کا حامی نمایاں کریں تاکہ پارلیمنٹ میں سیکولار قسم کے لوگ اپنے عہدوں پر باقی رہیں۔محمد مرسی اور باراک اوبامہ کی آج صبح ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو اسی بات کی عکاسی کرتی ہے کہ وائٹ ہاوس مصر کے اخوان المسلمین کے درمیان کافی اثر و رسوخ رکھتا ہے وہ بخوبی ان کے درمیان رد و بدل کر سکتا ہے۔ مصر کے لوگ پہلے سے اس نکتہ کی طرف متوجہ تھے جس کی بنا پر انہوں نے قبل از وقت مرسی کو اقتدار کی کرسی سے ہٹانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

مصری صدر نے فوجی الٹی میٹم مسترد کر دیا، فوج کی وضاحتقاہرہ میں صدارتی دفتر کا خیال ہے کہ فوج کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کچھ چیزیں تشویشناک ہیں۔واضح رہے کہ مصری فوج کے سربراہ نے ملک میں جاری کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے حکومت اور سیاسی مخالفین کو اڑتالیس گھنٹوں کا وقت دیا تھا۔ فوج کے سربراہ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ اگر دونوں فریقوں نے اگلے اڑتالیس گھنٹوں میں اپنے معاملات طے نہ کیے تو فوج ایک ’روڈ میپ‘ پیش کرے گی۔اتوار کو مصر میں صدر محمد مرسی کے اقتدار کے ایک سال مکمل ہونے پر لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل کر ان کے اقتدار سے علیحدگی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔مظاہروں کے شروع ہونے کے ایک روز بعد قاہرہ میں صدر مرسی کی جماعت اخوان المسلمین کے ہیڈکوارٹر پر حملہ کیا گیا۔ اخوان المسلمین کے دفتر کے باہر ہونے والے تصادم میں آٹھ افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔تاہم تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، مصری فوج نے اپنے اس متنازعہ بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا مقصد فوجی بغاوت نہیں بلکہ سیاسی جماعتوں پر موجودہ کشیدگی ختم کرنے کے لیے زور دینا ہے۔منگل کو فوج کے ترجمان کے فیس بک کے صفحے پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بیان کا مقصد سیاسی جماعتوں پر زور دینا تھا کہ کشیدگی کو ختم کرنے اور لوگوں کے مطالبات پورا کرنے کے لیے قومی اتفاقِ رائے قائم کرے۔بیان کے مطابق عسکری قیادت فوجی بغاوت کو پالیسی کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔بیان میں کہا گیا ہے کہ فوج 1977، 1986 اور 2011 میں مصر کی گلیوں میں رہی لیکن فوجی بغاوت نہیں کی۔بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ فوج ہمیشہ لوگوں کی حمایت کرتی رہی ہے۔مصر بھر میں مظاہرین کا کہنا ہے کہ صدر مرسی کی حکومت اپنی ایک سال کی مدت کے دوران معاشی اور سیکورٹی کے مسائل کو حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔جبکہ صدر مرسی کے حامیوں کا کہنا ہے انہیں اس کے لیے مزید وقت دیا جانا چاہیے۔